جعفر اکسپریس کے یرغمالی بازیاب ڈی جی آئ ایس پی آر
جعفر ایکسپریس حملہ – ایک تفصیلی جائزہ
11 مارچ 2025 کو، جعفر ایکسپریس، جو کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی، بلوچستان کے ایک علاقے میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے شدت پسندوں کے ہاتھوں حملے کا شکار ہوئی۔ حملہ آوروں نے ریلوے ٹریک پر دھماکہ خیز مواد نصب کر کے ٹرین کو پٹری سے اتار دیا، جس کے نتیجے میں ٹرین ایک سرنگ میں پھنس گئی۔ اس کے بعد دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس میں ٹرین کے ڈرائیور جاں بحق ہو گئے اور تقریباً 450 مسافروں کو یرغمال بنا لیا گیا۔
بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حکومت سے اپنے سیاسی قیدیوں، سماجی کارکنوں، اور لاپتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ شدت پسندوں نے حکومت کو 48 گھنٹوں کی مہلت دی اور دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ یرغمالیوں کو قتل کر دیں گے۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر ایک بڑا ریسکیو آپریشن شروع کیا، جو کئی دنوں تک جاری رہا۔ 12 مارچ تک، تقریباً 190 یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا، جبکہ 30 کے قریب شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ تاہم، تقریباً 130 مسافر اب بھی دہشت گردوں کی قید میں تھے، جس کے باعث مزید کارروائی میں مشکلات پیش آ رہی تھیں، خاص طور پر پہاڑی اور دشوار گزار علاقے میں آپریشن کی پیچیدگیوں کے سبب۔

Comments
Post a Comment